چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو دہشتگردی سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور ’را‘ کا ہاتھ سامنے آیا ہے، تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان متعصبانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے معاملے پر قومی سیاسی قیادت کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنا چاہیے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے علاوہ کوئی اور ایسا بیان دیتا تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہری اور سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے اس معاملے پر سیاسی بیانات سے گریز ضروری ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر بحث ہونی چاہیے، تاہم عوام اور منتخب نمائندوں کی مرضی کے بغیر متنازع قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی تقسیم عوامی رائے کے بغیر کی گئی تو پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور وفاق کمزور ہوسکتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نئے پارلیمان کے قیام کے بعد صوبوں سے متعلق معاملات پر مشاورت ہونی چاہیے اور اٹھارہویں ترمیم کی طرح اتفاقِ رائے سے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔ جلد بازی میں صوبوں کے قیام کا فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے خلاف ہوگا۔
مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ماضی میں بھی مذاکرات کی پیشکش کی گئی لیکن عملی پیش رفت نہیں ہوسکی، اب اس معاملے میں پیش رفت ہونی چاہیے۔
انہوں نے سندھ کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کراچی میں بھرپور استقبال کیا گیا۔ ان کے مطابق رکاوٹوں کے باوجود عوام کی بڑی تعداد کا باہر نکلنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ موجودہ سیاسی نظام سے مطمئن نہیں ہیں۔





