‘امریکا اور ایران معاہدے کے قریب ہیں ؟ خواجہ آصف کا بڑا دعویٰ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید سیکیورٹی بحران کے باوجود سفارتی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ دونوں ممالک کے سخت مؤقف کے باوجود پاکستان اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بحران کے حل اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ خلیج میں وسیع تر امن معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ حالات اب امن کے حق میں آگے بڑھ رہے ہیں اور گزشتہ چند دنوں کے دوران ملنے والے اشارے کسی ممکنہ سمجھوتے کی جانب پیش رفت ظاہر کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر داخلہ محسن نقوی تہران کے دورے پر ہیں اور ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقاتیں کیں، جن میں سفارتی، دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے اس سفارتی کوشش میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی قیادت کے ساتھ تعطل ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز بھی زیرِ بحث لائیں۔ دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔

مجموعی طور پر حالیہ سفارتی رابطوں سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔