ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ ایرانی سازش سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ قابلِ اعتبار نہیں تھی اور اسے امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 8 جولائی کو انقرہ ایئرپورٹ پر ٹرمپ کی آمد کے موقع پر اچانک غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ امریکی حکام نے ترک حکام کو بتایا کہ اسرائیل سے موصول ہونے والی خفیہ معلومات کے مطابق ایک ایرانی خفیہ یونٹ ایئرپورٹ کے قریب ٹرمپ کے طیارے کو کندھے سے چلائے جانے والے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے۔
اطلاعات کے بعد امریکی سیکریٹ سروس نے حفاظتی انتظامات تبدیل کیے۔ ٹرمپ کی روانگی کے لیے متبادل ایئرپورٹ استعمال کیا گیا جبکہ نئے طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون کو استعمال کیا گیا، جس میں اضافی دفاعی نظام موجود تھا۔
ترک حکام کے مطابق انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کو سنجیدگی سے لیا اور مکمل تعاون کیا، تاہم بعد میں ان کے لیے یہ واضح ہوگیا کہ مبینہ سازش کے دعوے قابلِ یقین نہیں تھے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ جیسے سخت سیکیورٹی والے شہر میں اس نوعیت کے ہتھیار پہنچانا اور ایسا حملہ کرنا انتہائی مشکل تھا، جبکہ ایران ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنے کا خطرہ بھی مول نہیں لے گا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترک حکام کے نزدیک یہ مبینہ انٹیلی جنس رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے پرامید تھے۔
اسی دوران ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کے اشارے بھی دیے تھے، جبکہ اسرائیلی حکومت ایران کے خلاف مزید کارروائی کی خواہاں تھی۔
ایران ماضی میں بھی ٹرمپ کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ معاملے میں بھی مبینہ سازش سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔






