ٹرمپ کو خفیہ طور پر ترکی سے برطانیہ منتقل کیا گیا، دعویٰ

واشنگٹن (آن لائن) نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایک انتہائی خفیہ اور غیر معمولی سیکیورٹی منصوبے کے تحت ترکی سے نکال کر برطانیہ منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 8 جولائی کو ٹرمپ نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے بوئنگ 747-8 کے بجائے پرانے ایئر فورس ون میں برطانیہ جائیں گے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں پرانے طیارے کے استعمال کو ماضی کی یاد تازہ کرنے سے تعبیر کیا تھا۔

تاہم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ دراصل اس طیارے میں موجود ہی نہیں تھے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں طیارے کے مخالف سمت سے ایک کیٹرنگ کنٹینر کے ذریعے خفیہ طور پر نکالا گیا اور ایک تیسرے طیارے میں منتقل کیا گیا، جس کے ذریعے وہ مکمل رازداری میں ترکی سے برطانیہ پہنچے۔

رپورٹ کے مطابق پرانے ایئر فورس ون میں موجود صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی اس خفیہ منصوبے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ یوں وہ غیر ارادی طور پر صدر کی اصل نقل و حرکت چھپانے کے لیے ایک ڈیکوائے آپریشن کا حصہ بن گئے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق برطانیہ پہنچنے کے بعد ٹرمپ کو دوبارہ پرانے ایئر فورس ون میں منتقل کیا گیا، جہاں وہ صحافیوں کے سامنے طیارے سے اترے اور بعد ازاں قطر کے فراہم کردہ نئے بوئنگ 747-8 میں سوار ہو کر واشنگٹن روانہ ہوئے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ پیچیدہ منصوبہ چند گھنٹوں میں تیار کیا گیا، جب سیکیورٹی حکام نے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور ایئر فورس ون کو لاحق خطرے کو قابلِ اعتبار قرار دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف پہلے بھی دھمکیاں سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جنگ کے باعث ان خطرات میں مزید اضافہ ہوا۔

نیویارک ٹائمز نے اس واقعے کو امریکی صدر کی نقل و حرکت کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کی ایک غیر معمولی مثال قرار دیا ہے۔