وفاقی وزرا نے کسی بھی وقت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا عندیہ دے دیا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور شدید سیاسی خلفشار کے باعث گورنر راج کے نفاذ کی باتیں سامنے آنے لگی ہیں، وفاقی وزرا نے صوبے میں کسی بھی وقت بڑا اقدام ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو اپنی حدود سے تجاوز نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدر مملکت نے حکم دیا تو صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا جائے گا۔
اس سلسلے میں گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سردار فتح اللہ خان میاں خیل، ایم این اے محسن داوڑ اور احمد کنڈی بھی موجود تھے، ملاقات کے دوران رہنماؤں نے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کو صوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیا اور اس کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی محض اپنی کرسی بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اگر حالات ایسے بن جائیں کہ آئین تقاضا کرے تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی بالکل لگنی چاہیے اور لگے گی، آئین میں درج تمام ضروریات پوری ہونے کی صورت میں قانون کے تحت ہی کارروائی کی جائے گی۔
سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبے میں حکومت چاہے وزیر اعلیٰ کی ہو یا گورنر کی، عام عوام کا بنیادی مطالبہ صرف امن و امان کا قیام ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اس قسم کی دھمکیوں سے بالکل نہیں ڈرتے اور اپنے سیاسی موقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، وہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتے ہیں جو انہیں ان کے سیاسی نظریے اور اصولوں سے ہٹا دے، انہوں نے وفاقی حکومت کی سیکیورٹی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور وفاق کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے، اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو وہ 100 دن میں صوبے میں مکمل امن قائم کر کے دکھا سکتے ہیں، صوبائی حکومت نے پولیس کو تمام وسائل فراہم کیے ہیں تاہم محض وسائل سے اتنا بڑا مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک بنیادی سیکیورٹی پالیسی درست نہیں کی جاتی۔






