بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ، اہم انکشافات

بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغان انٹیلی جنس اور طالبان رجیم کے درمیان رابطے کا انکشاف ہوا ہے، افغان انٹرنیشنل نے خفیہ رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ را، طالبان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اور طالبان قیادت پر مشتمل نیٹ ورک 2025 میں قائم ہوا، طالبان انٹیلی جنس نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر فتنۃ الہندوستان، فتنۃ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے روابط قائم کیے، افغان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان رجیم کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری حکم میں بلوچ ریفیوجی کوآرڈی نیشن آفس نامی تنظیم کو اسلحہ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، 26 اگست کو قندھار میں طالبان کی سرپرستی میں فتنۃ الہندوستان، فتنۃ الخوارج اور القاعدہ کی شخصیات کی ہنگامی ملاقات ہوئی جس میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ بشیر زیب، خلیل بلوچ، صفت اللہ مینگل، انور نظامی اور مجید بلوچ نے شرکت کی، دستاویز کے مطابق زیادہ تر حملے فتنۃ الخوارج اور القاعدہ کرتے ہیں جبکہ ذمہ داری فتنۃ الہندوستان قبول کرتی ہے، اس مشترکہ انتظام کا مقصد امریکی پابندیوں کی زد میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی شمولیت چھپانا ہے اور 4 ستمبر کے زیارت حملے کو فتنۃ الخوارج نے انجام دیا جبکہ فتنۃ الہندوستان نے عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے ذمہ داری قبول کی، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں کارروائی کے لیے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی۔