امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد کی اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق تمام امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں عملے کی تربیت کا عالمی پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے باعث ویزا سروسز کی اپائنٹمنٹس کو دوبارہ ترتیب دیا جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ تربیت کا مقصد قونصلر افسران کو ایسے درخواست گزاروں کی نشاندہی میں مدد دینا ہے جو امریکا کے عوامی فلاحی پروگراموں پر انحصار کر سکتے ہیں، اور ویزا درخواستوں کی جامع اور یکساں جانچ کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ خارجہ نے تربیت کی مدت یا مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
رپورٹس کے مطابق امیگرنٹ ویزا کے لیے پہلے سے طے شدہ انٹرویو رکھنے والے درخواست گزاروں کو ای میلز موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ مقرر کی جا رہی ہیں اور نئی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات شروع کر رکھے ہیں جن میں ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی اور مختلف بنیادوں پر درخواستیں مسترد کرنا شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملک کی داخلی سلامتی بہتر بنانا ہے۔
22 اگست کو ایک امریکی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کرنے کی پالیسی کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ وزیر خارجہ کے قانونی اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آزادی اظہار اور قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔






