نئی دہلی (آئی این پی): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فیس بک پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو اچانک غائب ہونے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا، جس پر بھارتی حکومت نے بھی نوٹس لیتے ہوئے میٹا سے وضاحت طلب کر لی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد صارفین نے ویڈیو کھولنے کی کوشش کی تو انہیں پیغام نظر آیا کہ یہ مواد قانونی درخواست کے باعث ان کے علاقے میں دستیاب نہیں ہے، جس کے بعد ویڈیو ہٹائے جانے کی وجوہات پر سوالات اٹھنے لگے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ ویڈیو وزیراعظم مودی کے نوجوانوں، خصوصاً جین زی سے خطاب پر مبنی تھی، جس میں انہوں نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر طلبہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام پر کام کر رہی ہے۔
ویڈیو کے مختصر وقت کے لیے غائب ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ بعض صارفین نے میٹا سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ویڈیو کسی قانونی حکم کے تحت نہیں ہٹائی گئی تو پھر صارفین کو قانونی درخواست والا پیغام کیوں دکھایا گیا۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے امکان ظاہر کیا کہ یہ معاملہ کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ وزیراعظم مودی کی فیس بک پر پہلی سیلفی انداز میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو بھی قرار دی جا رہی تھی۔
ویڈیو غائب ہونے کے بعد بھارتی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے معاملے کا نوٹس لیا اور میٹا کے عالمی سربراہ برائے عوامی پالیسی سے وضاحت طلب کی کہ وزیراعظم کے سرکاری اکاؤنٹ سے ویڈیو کس وجہ سے ہٹائی گئی اور صارفین کو قانونی پابندی سے متعلق پیغام کیوں دکھائی دیا۔
بعد ازاں میٹا نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی ویڈیو غلطی سے ہٹا دی گئی تھی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔ کمپنی ترجمان کے مطابق ویڈیو کا ہٹایا جانا کسی پالیسی یا دانستہ فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ تکنیکی خرابی کے باعث ایسا ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مواد کی نگرانی، خودکار نظام (آٹومیٹڈ ماڈریشن) اور شفافیت کے معاملات پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔






