نیپال سے بھی زیادہ شدید خدشات، NDMA کا چونکا دینے والا انکشاف

اسلام آباد (آن لائن) این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب نے کہا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت پاکستان میں گلیشیئرز کے لیے خطرناک ہے اور پاکستانی گلیشیئرز نیپال کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طیب نے کہا کہ پاکستان تین بڑی ماؤنٹین رینجز کے جنکشن پر واقع ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ پاکستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلاف) کا خطرہ نیپال سے زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیزی سے بڑھتے درجہ حرارت کے باعث مختلف گلیشیائی جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں 60 ایسی جھیلیں ہیں جن کے پھٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ آئس راک کے ٹوٹنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ڈاکٹر طیب نے انکشاف کیا کہ ان گلیشیئرز میں کریکس بن چکے ہیں۔ پرما فراسٹ ایک قدرتی گلو کا کام کرتا ہے جو آئس راک کو گلیشیئرز سے چپکائے رکھتا ہے، تاہم بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پرما فراسٹ تیزی سے پگھل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرما فراسٹ کے پگھلنے سے گلیشیئر سلائیڈ کرسکتا ہے جو برفانی تودے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق نیپال میں پیش آنے والا سانحہ بھی پرما فراسٹ کے پگھلنے کی وجہ سے ہوا۔

ڈاکٹر طیب نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کی ٹیمیں ان علاقوں میں متحرک ہیں جہاں خطرہ زیادہ ہے۔