پاکستان کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنی پہلی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثی حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے بتایا کہ مکہ معاہدہ خطے کی سلامتی کو مؤثر ڈیٹرنس کے ذریعے یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا دفاعی اتحاد ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان اس معاہدے کے تحت مشاورت جاری ہے، جبکہ مستقبل میں یکساں سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی اس معاہدے میں شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تاہم، فی الحال کسی نئے ملک کی شمولیت زیر غور نہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے اور دونوں ممالک سہ ملکی دفاعی معاہدے کا بھی حصہ ہیں۔

ایران کے حوالے سے انہوں نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا جس میں پاکستان کی جانب سے ایران کو وارننگ دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تجارت سے متعلق معاہدوں میں اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھے گا۔

افغان طلبہ سے متعلق وضاحت

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان نے تمام افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایسے افغان طلبہ جن کے پاس تعلیمی ویزا موجود ہے لیکن وہ کسی یونیورسٹی میں رجسٹرڈ نہیں، انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

حال ہی میں میڈیکل اور ڈینٹل شعبے سے وابستہ افغان طلبہ کے حوالے سے بھی متعلقہ اداروں کی جانب سے انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔

نارووال مندر سے متعلق بھارتی دعوے

ترجمان نے نارووال میں ہندو مندر سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مندر کی عمارت 21 جولائی کو ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث متاثر ہوئی تھی۔

ان کے مطابق نقصان کے بعد حکام نے صورتحال کا جائزہ لیا اور مندر کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔ انہوں نے بھارت پر حقائق کو مسخ کرنے اور اقلیتوں کے خلاف مبینہ مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ پاکستان نے 5 ستمبر کو اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد کی مسماری کی بھی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مذہبی آزادیوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل قبضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازع اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

ترجمان نے بھارت پر بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔

یاسین ملک کی صحت پر تشویش

دفتر خارجہ نے کشمیری رہنما یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یاسین ملک اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتا رہے گا۔

ترجمان کے مطابق یاسین ملک نے بھارتی عدالتی نظام کے حوالے سے ایک واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور اپنے خلاف زیر سماعت مقدمات میں مزید دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیپال کے لیے امداد

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں کے لیے 100 ٹن امدادی سامان بھیجا گیا۔ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے نیپالی سفارت خانے کا دورہ کرکے سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت بھی کی۔

ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی

پاکستان اگلے سال 4 سے 11 اپریل تک ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا۔ آٹھ روزہ مقابلے اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں منعقد ہوں گے۔

ترجمان کے مطابق کھیلوں میں شرکت کے لیے دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے بھیجے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی شرکت ہو یا نہ ہو، پاکستان کھیلوں کا انعقاد کرے گا، تاہم توقع ہے کہ تمام جنوبی ایشیائی ممالک ان مقابلوں میں شریک ہوں گے۔

گلوبل گورننس انیشی ایٹو

ترجمان نے کہا کہ پاکستان گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے حوالے سے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 160 ممالک نے اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جبکہ 60 سے زائد ممالک گلوبل گورننس کے دوست ممالک کے گروپ میں شامل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن نے بھی باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور اس کے فعال نفاذ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

سفارتی سرگرمیاں

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے کرغزستان کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق ہوا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی او آئی سی کے نئے سیکریٹری جنرل سمیت ناروے، کویت، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔