اے آئی ماڈل ‘کلاڈ’ کا تین کمپنیوں کے سسٹمز پر سائبر حملہ

مصنوعی ذہانت کے شعبے کی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل ”کلاڈ“ نے سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران تین مختلف کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ایک تکنیکی غلطی کے باعث پیش آیا، جس کی وجہ سے اے آئی ماڈلز ایسے ٹیسٹنگ ماحول سے انٹرنیٹ تک پہنچ گئے جہاں انہیں مکمل طور پر الگ رکھا جانا تھا۔

اینتھروپک نے بتایا کہ ایک اور اے آئی کمپنی کے حالیہ سکیورٹی واقعے کے بعد اس نے اپنے ٹیسٹنگ عمل کا دوبارہ جائزہ لیا۔ اس دوران ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد ٹیسٹ سیشنز کا تجزیہ کیا گیا، جس میں تین ایسے واقعات سامنے آئے جہاں کلاڈ ماڈلز حقیقی کمپنیوں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

کمپنی کے مطابق یہ واقعات مختلف اے آئی ماڈلز کے ذریعے پیش آئے، جن میں کلاڈ اوپس 4.7، کلاڈ میتھوس 5 اور ایک اندرونی تحقیقی ماڈل شامل تھے۔ یہ واقعات اپریل 2026 میں ہونے والے ٹیسٹس کے دوران پیش آئے، جہاں ٹیسٹنگ ماحول میں مطلوبہ حفاظتی انتظامات مکمل طور پر نافذ نہیں تھے۔

اینتھروپک نے کہا کہ یہ تجربات ”کیپچر دی فلیگ“ نامی سائبر سکیورٹی مشقوں کا حصہ تھے۔ ان مشقوں میں اے آئی ماڈلز کو فرضی کمپیوٹر نیٹ ورکس میں مخصوص معلومات تلاش کرنے کا کام دیا جاتا ہے تاکہ ان کی سائبر صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈلز کو بتایا گیا تھا کہ انہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے، تاہم ٹیسٹنگ پارٹنر کے ساتھ تکنیکی غلط فہمی کے باعث سسٹمز عوامی انٹرنیٹ سے منسلک رہے۔ اس وجہ سے کلاڈ ماڈلز حقیقی نیٹ ورکس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان ماڈلز نے سسٹمز تک رسائی کے لیے نسبتاً بنیادی سائبر طریقے استعمال کیے، جن میں کمزور پاس ورڈز اور ایسے نیٹ ورک راستے شامل تھے جہاں مناسب شناختی تصدیق موجود نہیں تھی۔

کمپنی نے بتایا کہ 23 جولائی کو جیسے ہی اسے شبہ ہوا کہ کلاڈ نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی ہے، تمام سائبر سکیورٹی ٹیسٹ روک دیے گئے اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ 24 جولائی تک تینوں واقعات کی نشاندہی کر لی گئی، جبکہ 27 جولائی کو متاثرہ کمپنیوں کو آگاہ کر دیا گیا۔

اینتھروپک کے مطابق تین کمپنیوں میں سے دو کو اس سرگرمی کا پہلے علم نہیں تھا، جبکہ تیسری تنظیم سے رابطے کی کوشش جاری ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

کمپنی نے کہا کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز اب حقیقی دنیا میں سائبر سرگرمیاں انجام دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے اے آئی ٹیسٹنگ کے دوران اندرونی اور بیرونی دونوں ماحول میں مضبوط حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

ماہرین کے مطابق حالیہ واقعات نے اے آئی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ جڑے سائبر سکیورٹی خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے نظاموں کی جانچ کے لیے مزید سخت نگرانی اور حفاظتی طریقہ کار اپنانا ضروری ہوگا تاکہ غیر متوقع رسائی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔