برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان تصاویر کا خطرناک انداز میں غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عام خاندانی تصاویر بھی سائبر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگنے کے بعد جعلی اور نازیبا مواد میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر شیئر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان، جسے “شرینٹنگ” (Sharenting) کہا جاتا ہے، نے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ والدین اکثر یادگار لمحات دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے تصاویر پوسٹ کرتے ہیں، مگر یہی مواد بعض اوقات بچوں کی پرائیویسی اور تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کی مدد سے عام تصاویر کو حقیقت سے قریب تر جعلی تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر رہے ہیں، جنہیں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار بھی اس تشویشناک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ادارے کے مطابق 2025 کے دوران اے آئی سے تیار کی گئی بچوں سے متعلق تقریباً 3 ہزار 500 جعلی تصاویر اور ویڈیوز رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2024 میں ایسے کیسز کی تعداد صرف 13 تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اس نوعیت کے سائبر جرائم میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو پرائیویٹ رکھیں اور بچوں کی تصاویر صرف قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ اس مقصد کے لیے “کلوز فرینڈز” اور دیگر پرائیویسی فیچرز کا استعمال مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ والدین بچوں سے اس موضوع پر کھل کر بات کریں اور ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ آیا وہ اپنی تصاویر یا ویڈیوز آن لائن شیئر کیے جانے پر رضامند ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق بچوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی کا احترام اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا موجودہ دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔






