ٹائٹل کا دفاع نہ کرنے پر تنقید، ارشد ندیم کا ناقدین کو جواب

کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر پانے پر ہونے والی تنقید کے بعد پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولن تھروور ارشد ندیم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرد موسم اور تیز ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ان کی باڈی اکڑ گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنی بہترین تھرو نہ کر سکے۔

میاں چنوں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ خیریت سے وطن واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل میں ہر کھلاڑی کا اچھا اور برا دن آتا ہے اور انہوں نے ہمیشہ کی طرح پوری محنت اور دیانتداری سے بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی۔

ارشد ندیم نے قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام ان سے بہتر کارکردگی کی امید کر رہی تھی، تاہم اس بار وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تیاری میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور ان کی فٹنس بھی مکمل طور پر بہتر تھی۔

انہوں نے اپنی کارکردگی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انہوں نے گرم موسم میں ٹریننگ کی، جبکہ مقابلے کے مقام پر موسم غیر معمولی طور پر سرد تھا اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ان کا جسم اکڑ گیا، جس سے رن اپ متاثر ہوا اور وہ اپنی معمول کی رفتار حاصل نہ کر سکے۔

اولمپک چیمپئن نے کہا کہ ماضی میں وہ اکثر پوری رفتار سے رن اپ لیتے ہوئے فاؤل کر جاتے تھے، لیکن اس مرتبہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ رن اپ ہی درست انداز میں نہیں لے سکے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ انہوں نے کچھ منفی تبصرے دیکھے، جن سے انہیں دکھ ضرور ہوا، لیکن پاکستانی قوم ان کی اپنی قوم ہے اور وہ ہمیشہ پاکستان کے لیے محنت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انہیں تنقید سے زیادہ قوم کی دعاؤں اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ مایوس نہیں ہوئے اور آئندہ مقابلوں کے لیے پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ تیاری کریں گے۔ ارشد ندیم کے مطابق ان کی توجہ اب آنے والے بین الاقوامی مقابلوں پر ہے، جن میں ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ اور ایشین گیمز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مقابلے میں ہونے والی غلطیوں کو دور کیا جائے گا اور وہ مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھانے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ ایک بار پھر پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں۔

یاد رہے کہ کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں ارشد ندیم ٹاپ 8 میں جگہ نہ بنا سکے اور اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے، جبکہ سونے کا تمغہ سری لنکن ایتھلیٹ رومیش تھارانگا نے حاصل کیا۔