پاکستان نے بھارت کے آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تنقید کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور بنگلا دیش کی حالیہ اندرونی صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق بنگلا دیشی عوام اپنے معاملات خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پاکستان اس کی خودمختاری اور عوام کے فیصلوں کا احترام کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بنگلا دیش کے ساتھ ترقی اور باہمی تعاون کے تعلقات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی سعودی قیادت سے ملاقاتوں کے لیے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور تزویراتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جبکہ آبنائے ہرمز کے معاملے کے حل میں عمان کے کردار کو سراہا گیا۔ پاکستان نے ایران، امریکا کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار کے اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، عراق اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے ہوئے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی مذاکرات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ مذاکرات میں داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی۔
افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن اور اچھے تعلقات چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گرد سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے عالمی امداد دینے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کو دی جانے والی امداد دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون رکھتا ہے، جبکہ صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان صومالی حکومت اور عالمی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔






