امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق تین کمپنیوں اور دو طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بعض عراقی فضائی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق فلائی بغداد، عراق ایکسپریس اور ان سے منسلک دیگر اداروں کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر ماضی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے مبینہ تعلقات کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
محکمہ خزانہ نے ان کمپنیوں سے متعلق دو طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔
پابندیوں میں نرمی کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 75.06 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل 78.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق پابندیوں میں ممکنہ نرمی سے عالمی توانائی مارکیٹ میں رسد بڑھنے کی توقعات پیدا ہوئیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے نجی سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ امن کے بدلے معاشی مواقع فراہم کرنے کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر تعلقات کی صورت میں ایران معاشی ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک تہران جوہری معاہدوں کی مکمل پاسداری نہیں کرتا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے رویے میں تبدیلی اور جوہری معاملات پر مکمل تعمیل ضروری ہے، جبکہ غلط اقدامات پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
امریکی بیانات میں ایک طرف ایران کے لیے اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب جوہری معاملات پر سخت شرائط برقرار رکھنے کا مؤقف بھی دہرایا گیا ہے۔






