امریکا کی معروف مالیاتی کمپنیوں اور سرمایہ کاری کے اداروں کو حالیہ دنوں میں پیچیدہ نوعیت کے سائبر حملوں کا نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہیکرز نے وال اسٹریٹ کی بڑی مالیاتی سروسز کمپنیوں کے معلوماتی نظام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دو باخبر ذرائع نے، جنہوں نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بتایا کہ دنیا کے چند بڑے ہیج فنڈز اور کئی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنیوں کو ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ہیج فنڈز ایسی سرمایہ کاری کمپنیاں ہوتی ہیں جو اربوں ڈالر کے اثاثوں کا انتظام کرتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہیکرز نے فون کالز کے ذریعے کمپنیوں کے ملازمین کو دھوکا دے کر کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی یا حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
سرمایہ کاری کی معروف کمپنی پوائنٹ 72 ایسیٹ مینجمنٹ نے بدھ کے روز اپنے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا کہ اسے بھی ایسے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کمپنی کے مطابق اس دوران صارفین کا کوئی ڈیٹا چوری نہیں ہوا۔
رائٹرز کے مطابق ہیکرز نے دیگر معروف ہیج فنڈز، جن میں ٹو سگما انویسٹمنٹس اور سٹیڈل شامل ہیں، کے معلوماتی نظام میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی۔ ٹو سگما نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ سٹیڈل اور پوائنٹ 72 نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی مالیاتی کمپنیوں پر ہیکنگ کی کوششیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم فون کالز کے ذریعے ملازمین کو دھوکا دینے کی حکمت عملی اب بھی ہیکرز کے لیے مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ ماضی میں “اسکیٹرڈ اسپائیڈر” نامی سائبر جرائم پیشہ گروہ بھی اسی نوعیت کے حملوں کے ذریعے متعدد بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مدد یافتہ سائبر حملوں اور رینسم ویئر کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں، جو کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے ساتھ حساس ڈیٹا چوری کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رینسم ویئر ایک ایسا نقصان دہ سافٹ ویئر (مالویئر) ہے جو کمپیوٹر، موبائل یا کسی ادارے کے نیٹ ورک میں موجود فائلوں کو لاک یا انکرپٹ کر دیتا ہے، جس کے بعد حملہ آور ان فائلوں کو بحال کرنے کے بدلے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سائبر خطرات کے پیش نظر رواں سال وائٹ ہاؤس نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے سے وابستہ اداروں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ سائبر خطرات سے متعلق معلومات کے تبادلے اور دفاعی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔






