ٹک ٹاکر کا لرزہ خیز ق-ت-ل،چونکا دینے والا انکشاف سامنے آ گیا

راولپنڈی پولیس نے ٹیکسلا میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر کے کیس میں اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مقتولہ کے والد، بھائی، کزن اور دیگر رشتہ دار قتل میں ملوث ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے بتایا کہ ٹک ٹاکر گلمینہ کو ان کے والد، بھائی اور کزن نے مل کر قتل کروایا، جبکہ والد اپنی بیٹی کے قتل کے بعد مقدمے کا مدعی بھی بن گیا۔ ان کے مطابق مقتولہ کے اہلخانہ اس کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز کو پسند نہیں کرتے تھے۔

ایس ایس پی آپریشنز نے بتایا کہ ٹک ٹاکر قتل کیس میں اب تک 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں دونوں مبینہ شوٹرز بھی شامل ہیں، جبکہ ایک ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پی او نے قتل کیس کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں، 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ نامزد ملزمان کے علاوہ مزید افراد بھی قتل میں ملوث ہیں۔

ملک طارق محبوب کے مطابق مقتولہ خیبرپختونخوا سے ہجرت کرکے اسلام آباد آئی تھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک شادی کی تقریب میں ٹک ٹاکر کی شرکت پر اعتراض کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل ہری پور میں بھی اس پر حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مقتولہ کے والد فضل، بھائی بشیر، چچازاد بھائی احسان، والد کے چچا روزی خان اور چچازاد بھائی کے بیٹے یاسین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے قتل کی منصوبہ بندی اس انداز میں کی کہ اس کا الزام دوسرے افراد پر عائد کیا جاسکے۔

ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پرسنیلٹی شمسو بی بی عرف عائشہ گلمینہ کے قتل کیس کا ڈراپ سین ہوگیا ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق قتل غیرت کے نام پر کروایا گیا۔ مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ مقتولہ کے والد اور بھائی نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر عائشہ گلمینہ کو قتل کروایا۔ سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایات پر قتل کیس کی تفتیش کے لیے متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، جو براہ راست سی پی او کو پیش رفت سے آگاہ کرتی رہیں۔ تفتیش کے دوران 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا جبکہ ہیومن انٹیلی جنس سمیت دیگر ذرائع بھی استعمال کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے حالات و واقعات کی روشنی میں مقتولہ کے والد اور بھائی کو بھی شامل تفتیش کیا۔ ملزمان نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پرسنیلٹی عائشہ کو قتل کروانے کا انکشاف کیا اور قانون کو گمراہ کرنے کے لیے واقعے کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق قتل غیرت کے نام پر کروایا گیا ہے، تاہم مزید تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ پولیس نے شواہد اور تفتیش کی روشنی میں پانچوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

ترجمان کے مطابق ٹیکسلا پولیس نے واقعے کے بعد سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مسلسل تفتیش جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مقدمے کے اصل ملزمان گرفتار ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان پیش کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کی جائے گی اور کوئی بھی ملزم قانون کو گمراہ نہیں کرسکتا۔