جے یو آئی کا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت سے معذرت

لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم ہم نے معذرت کرلی ہے۔ جماعت اسلامی نے دعوت دی ہے یا نہیں، اس کا مجھے معلوم نہیں۔ ہماری جماعت اپنا اکیلے احتجاج کرسکتی ہے، کسی دوسری جماعت کے ساتھ مل کر احتجاج نہیں کرے گی اور مولانا فضل الرحمان نے بالکل واضح انداز میں یہ بات کردی تھی۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 40 لاکھ لوگوں کے ساتھ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آئیں گے، 27 ستمبر کو واضح ہوجائے گا کہ ان کا یہ دعویٰ درست ہے یا نہیں، لیکن بطور ایک سیاسی کارکن مجھے یہ ممکن نہیں لگتا کہ 40 لاکھ لوگوں کا مارچ کسی ایک شہر یا ایک صوبے سے چل پڑے اور مرکزی دارالحکومت تک آ جائے۔

انہوں نے کہا کہ اب دونوں جانب ایک امتحان شروع ہوچکا ہے، ایک امتحان شاید پی ٹی آئی کا ہے اور دوسرا حکومت کا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس امتحان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام رہتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ صورتحال دونوں فریقوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری نظر ان دونوں مارچوں پر ہے، جماعت اسلامی کے مارچ کے نتائج دیکھیں گے، اسی طرح پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے اسلام آباد آنا چاہتی ہے۔ ہم دونوں معاملات کا بغور جائزہ لیں گے، ان کا مطالعہ کریں گے اور اس کے بعد اپنی جماعت کا آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان 17 ستمبر کو کراچی جائیں گے اور اس کے بعد پشاور کا دورہ کریں گے۔ اگر کسی کو اتحاد کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو وہ ہم سے زیادہ پی ٹی آئی کو محسوس ہورہی ہے، وہ آگے بڑھیں گے تو پھر ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اسے پرکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تمام معاملات بالکل واضح نہ ہوجائیں، آپس کے اختلافات کی دھند چھٹ نہ جائے اور تمام امور طے نہ ہوجائیں، اس وقت تک ہمارے لیے مزید آگے بڑھنا مشکل ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سوال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی معاملہ نہیں، اس پر ابھی تک غور بھی نہیں کیا گیا، اس لیے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ میرے خیال میں تحریک عدم اعتماد کے بجائے نئے انتخابات کرانا زیادہ بہتر ہوگا، وہ بھی شفاف اور آزادانہ ہوں، تاکہ عوام اپنے نمائندے منتخب کرسکیں اور پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ سکے۔