کرپشن پر قابو پایا جائے گا اور کارروائی لائیو دیکھی جائے گی! مریم نواز

لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت مؤثر اور شفاف پولیسنگ کے لیے پنجاب میں پہلی مرتبہ پولیس فیلڈ فورس کے لیے باڈی وورن کیمرے متعارف کرا دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں باڈی وورن کیمروں کے استعمال کے لیے پولیس فیلڈ فورس کی تربیت مکمل ہوگئی ہے۔ ابتدائی طور پر لاہور میں باڈی وورن کیمروں کے منصوبے کا آغاز کیا جارہا ہے، جبکہ پولیس اسٹیشنز میں کیمروں کے لیے ڈاکنگ پوائنٹس کی تنصیب بھی شروع کردی گئی ہے۔

باڈی وورن کیمرے صوبہ بھر کے 43 شہروں میں قائم اسمارٹ سیف سٹی سسٹم سے منسلک ہوں گے۔ پنجاب پولیس، پنجاب ہائی وے پولیس، ڈولفن فورس اور ٹریفک وارڈنز دوران ڈیوٹی باڈی وورن کیمرے پہنیں گے۔

باڈی وورن کیمروں میں چہرے کی ڈیجیٹل شناخت کا فیچر موجود ہوگا، جس کے ذریعے ملزمان کی شناخت بھی کی جاسکے گی۔ جدید ترین کیمروں میں کالنگ فیچر بھی موجود ہے جس سے فوری رابطہ ممکن ہوگا، جبکہ کیمروں سے آڈیو، ویڈیو کے علاوہ تصاویر بھی بنائی جاسکیں گی۔

نئے باڈی کیم منصوبے کے ذریعے بائیک اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی آٹومیٹڈ ریڈنگ بھی ہوگی، جبکہ ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر تھریٹ الرٹ بھی جنریٹ کیا جاسکے گا۔ باڈی وورن کیمروں کے ذریعے دوران ڈیوٹی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی اور بلٹ اِن میموری میں بھی ویڈیو محفوظ ہوگی۔

ڈیوٹی کے بعد پولیس اہلکار باڈی وورن کیمرہ مخصوص ڈاکنگ پوائنٹ پر رکھیں گے، جہاں کیمرے میں موجود ریکارڈ شدہ ڈیٹا خودکار طریقے سے منتقل ہوکر محفوظ ہوجائے گا۔

باڈی کیم میں ’’پش ٹو ٹاک‘‘ فیچر کے ذریعے فیلڈ ڈیوٹی افسر کنٹرول روم سے فوری رابطہ کرسکے گا، جبکہ ’’ایس او ایس‘‘ ایمرجنسی بٹن کے ذریعے کنٹرول روم کو ہنگامی صورتحال سے آگاہ کیا جاسکے گا۔

پولیس کے باڈی وورن کیمرے سنٹرل مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہوں گے اور متعلقہ ڈسٹرکٹ سیف سٹی کنٹرول روم میں ان کی لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ باڈی وورن کیمروں سے نہ صرف مانیٹرنگ ممکن ہوگی بلکہ کرپشن کو بھی روکا جاسکے گا۔ عوام، بالخصوص کمزور طبقات میں یقینی تحفظ کا احساس ہی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر فرد کے جان و مال کی حفاظت حکومت کا اولین فرض ہے۔