اسلام آباد کا بلدیاتی نظام ایک بار پھر قانون سازی کے مرحلے میں داخل ہوگیا، جہاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باوجود اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں نئے بلدیاتی ڈھانچے کے قیام کے لیے قانون سازی ضروری ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مسلسل ترامیم اور صدارتی آرڈیننس کے باعث وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اگر بلدیاتی انتخابات کرانے ہیں تو اس بارے میں واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 ستمبر کو صدارتی آرڈیننس کی مدت ختم ہورہی ہے، لیکن اس کے باوجود اسی معاملے پر قانون سازی کی جارہی ہے۔
وزارتِ قانون کے نمائندوں نے بھی بل کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ بل منظور ہوا ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے باوجود بل کمیٹی کے پاس موجود رہے گا۔
بعد ازاں کمیٹی کے چیئرمین راجا خرم نواز نے بل پر ووٹنگ کرائی، جس کے نتیجے میں اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔
مجوزہ قانون میں منتخب بلدیاتی حکومتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری، ٹیکسز اور فیسوں کی وصولی کے اختیارات اور وفاقی حکومت کی جانب سے مقامی حکومتوں اور ایڈمنسٹریٹرز کو ہدایات جاری کرنے سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی نوٹ بھی جمع کرادیا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنا ضروری ہے۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کی جانب پیش رفت کرتا ہے، ایک نئی ترمیم سامنے آجاتی ہے۔
اختلافی نوٹ پر آغا رفیع اللہ، جمال رئیسانی، نبیل گبول اور عبدالقادر پٹیل کے دستخط موجود ہیں، جبکہ بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے بھی بل کی مخالفت کی۔
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جنوری 2026 میں مقامی حکومت کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا، جس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن ختم کرکے تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
مجوزہ ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود قومی اسمبلی کے حلقوں کے مطابق مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ مذکورہ صدارتی آرڈیننس کی مدت 5 ستمبر کو ختم ہورہی ہے۔






