ایران پر دوبارہ حملے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر دوبارہ حملے کے بارے میں سوچ رہا ہے، جبکہ توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کریں گے۔

ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کی شرائط امریکا کو قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ معاہدہ ہے جسے شاید امریکا ایک سال پہلے قبول کرلیتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی پر بات کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے اپنی طاقت اور پوزیشن کو ضرورت سے زیادہ مضبوط سمجھا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد گزشتہ روز سب سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرا۔ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار میں تیل گزارنے میں مدد کر رہی ہے۔

ایگزیوس کے مطابق قطر اور دیگر ممالک امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کی بحالی روکنا ضروری ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم سے متعلق مسئلہ حل کرنا ہوگا اور جوہری معاہدے کی شرائط اور عالمی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔