دفتر خارجہ کی جانب سے نارووال میں مندر سے متعلق بھارتی الزامات مسترد کر دئیے گئے

پاکستان نے نارووال میں مندر سے متعلق بھارت کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے کہا ہے کہ نارووال میں واقع مندر کی عمارت 21 جولائی 2026 کو ہونے والی طوفانی بارشوں سے متاثر ہوئی تھی۔ بارشوں سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد مندر کی بحالی اور مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو مسخ کرنا اور حساس معاملات پر سیاست کرنا بھارت کا معمول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی پروپیگنڈا دنیا کی توجہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے نہیں ہٹا سکتا۔

دوسری جانب متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور ڈپٹی کمشنر نارووال طیب خان کے ہمراہ سراج گاؤں میں واقع تقریباً 125 سال پرانے مندر کا دورہ کیا اور موقع پر موجود شواہد کا جائزہ لیا۔

ناصر مشتاق نے مندر کو دانستہ طور پر گرائے جانے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد یا ادارے کی جانب سے مندر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں کے باعث قدیم عمارت کا ایک بوسیدہ حصہ منہدم ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بے بنیاد افواہیں پھیلا کر اقلیتوں کے حقوق اور پاکستان کے عالمی تشخص کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سیکرٹری بورڈ کے مطابق سراج گاؤں اور اس کے گردونواح میں ہندو برادری کی کوئی فیملی رہائش پذیر نہیں اور مذکورہ مندر غیر فعال ہے، جہاں اس وقت مذہبی رسومات ادا نہیں کی جاتیں۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے بھی وضاحت کی کہ مندر کی زمین کبھی کسی کو لیز پر نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق خستہ حال عمارت کی فوری مرمت اور بحالی کے لیے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق حساس معاملات میں الزام، دعوے اور حقیقت کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہے اور بغیر تصدیق خبریں نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کررہی ہے، جبکہ صوبے بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں کی ماسٹر پلاننگ بھی جاری ہے۔