*ایران نے جوہری مذاکرات کے لیے امریکا کے سامنے اہم شرائط رکھ دیں*
ایران نے جوہری مسائل پر نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے امریکا کے سامنے اہم شرائط رکھ دی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ 60 فیصد یورینیم کی افزودگی قانونی ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے دائرے میں ہے، یہ میڈیکل اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نیک نیتی دکھائے تو بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ جنگ اور مذاکرات کا انتخاب ٹرمپ کے پاس ہے، ہم دوبارہ جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں اور نئی جارحیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔ ہم نے گزشتہ 2 جنگوں سے سبق سیکھ کر حکمت عملی بہتر بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں امریکا نے مذاکرات کی پیشکش کی تو ہم نے قبول کی لیکن مذاکرات کے دوران حملہ کر دیا گیا، فروری 2026 میں پھر مذاکرات کی پیشکش ہوئی اور پھر بات چیت کے دوران حملہ ہوا۔ جنگ کے اختتام پر 3 ماہ مذاکرات کے بعد معاہدہ ہوا جسے توڑنے میں انہیں دو ہفتے لگے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم امریکی مڈ ٹرم الیکشن کو اہمیت نہیں دیتے، ہمارے لیے صرف ایران کے قومی مفادات اہم ہیں۔






