بجلی بندش جاری، لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے تک پہنچ گئی ، عوام سراپا احتجاج

شدید گرمی اور حبس کے باعث ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شارٹ فال کے باعث مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش 10 سے 12 گھنٹے تک جاری ہے۔ بڑے شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تقریباً 6 گھنٹے، جبکہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں 12 گھنٹے تک بتایا جا رہا ہے۔ بجلی چوری اور زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں بندش 12 گھنٹے سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق رات کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی میں بہتری کا انحصار آر ایل این جی کارگو کی بروقت آمد پر ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3 ہزار 600 میگاواٹ کمی ہوئی ہے، جبکہ منگلا ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیداوار بھی تقریباً 195 میگاواٹ کم ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ آر ایل این جی کی دستیابی کے بعد بجلی کی پیداوار میں بہتری آئے گی۔

دوسری جانب دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد و اخراج ایک لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک ہے۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 19 ہزار 700 اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

چشمہ بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 98 ہزار 700 اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 72 ہزار 100 اور اخراج 50 ہزار کیوسک ہے۔

نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد و اخراج 22 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

تربیلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1550 فٹ اور ذخیرہ 55 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1219.30 فٹ اور ذخیرہ 55 لاکھ 34 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ اور ذخیرہ 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزروائرز میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 13 لاکھ 99 ہزار ایکڑ فٹ بتایا گیا ہے۔