کراچی ، نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہو گیا

کراچی کے ایک نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کی تحقیقات میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے، پولیس کے مطابق اسپتال لائی گئی خاتون حاملہ نہیں تھی۔

پولیس تحقیقات کے مطابق خاتون نے سماجی اور خاندانی دباؤ کے باعث خود کو حاملہ ظاہر کیا تھا، جبکہ آپریشن سے قبل اس کا مکمل طبی معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔ خاتون کے موبائل فون میں موجود الٹراساؤنڈ رپورٹ کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ کی تصدیق نہ کرنا اسپتال عملے کی غفلت قرار دیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد خاتون کا طبی معائنہ عباسی شہید اسپتال میں کرایا گیا، جبکہ پولیس نے معاملے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خاتون کے شوہر راشد نے اسپتال عملے کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے، جو تھانہ ناظم آباد میں وصول کرلی گئی ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق واقعے کی تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیجز، طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ میڈیکل کمیشن کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ خاتون گزشتہ 9 ماہ سے ڈاکٹر سے معائنہ اور الٹراساؤنڈ کروا رہی تھی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران خاتون کے حاملہ نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد شوہر اور دیگر رشتہ دار مشتعل ہوگئے اور اسپتال میں توڑ پھوڑ کی۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ڈی پی او گلبرگ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔