3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ، اہم اعلان کر دیا گیا

چیرنگ کراس چوک مال روڈ پر جماعت اسلامی کا دھرنا جاری ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی۔

 

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حق کے لیے دھرنے پر بیٹھنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ چاروں صوبوں کے عوام دھرنوں پر موجود ہیں۔ دھرنے پر بیٹھے لوگ اپنے عزائم پختہ رکھیں، آپ اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لے کر بیٹھے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران طبقے اور اشرافیہ نے اپنی عیاشیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رکھا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی سہولیات اور امن فراہم کرے۔ ریاست سہولیات کے لیے ٹیکس لیتی ہے لیکن یہاں عوام سے جگا ٹیکس اور بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔

 

حافظ نعیم نے پی آئی ایم ایس ہسپتال کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے 14 معصوم بچوں کی جانیں گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہسپتال میں فائر الارم کیوں نہیں تھے اور ہنگامی صورتحال میں عملے نے کیا کردار ادا کیا۔ صرف سیکرٹری کو معطل کرنا کافی نہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئیں اور چالیس سال سے ملک کو لوٹ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کا بیڑا غرق کر دیا جبکہ مریم نواز نے پنجاب کے 11 ہزار اسکول اور سینکڑوں ہیلتھ یونٹس فروخت کر دیے۔

 

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو پورے ملک میں پرامن ہڑتال ہوگی۔ اس کے لیے نوجوانوں، تاجروں اور پوری قوم کے تعاون کی ضرورت ہے۔ پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان ہڑتال میں شریک ہوں گے۔

 

انہوں نے دو مطالبات پیش کیے: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے اور آئی پی پیز بند کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد نے آئی پی مافیا کو بے نقاب کیا ہے اور کرپٹ ٹولے کے خلاف مؤثر تحریک کا آغاز ہو چکا ہے۔