پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو سڑکوں پر بیٹھ جائیں گے، حافظ نعیم الرحمن

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم نہ کی گئی اور عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے سڑکوں پر بیٹھ جائیں گے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر دھرنے کے نویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 12 ربیع الاول کو دھرنوں کے مقامات پر سیرت کانفرنسز جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہڑتال کی جائے گی۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو حکمران طبقے کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی فوری ختم کرے، جبکہ جماعت اسلامی آج رات احتجاج کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ ان کے مطابق احتجاج کے دباؤ پر حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی کی، تاہم اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچا۔

حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ مقامی تیل بھی درآمد شدہ تیل کی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے اور حکومت پٹرول پر عوام سے بھاری رقم وصول کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی کا اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں، یہ عوام پر اضافی بوجھ ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں، کیونکہ آئی پی پیز کا بوجھ عوام برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مہنگائی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سبزیاں اور روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوچکی ہیں، جبکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکمران شاہانہ اخراجات کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوامی دباؤ کے ذریعے حکومت کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

فلسطین کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمن نے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو محض بیانات کے بجائے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین، کشمیر اور خطے کی صورتحال سمیت عالمی معاملات پر پاکستان کو واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔