اگر میں غلط ہوں تو استعفی دوں گا ورنہ یہ دیں، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اگر میں غلط ہوں تو استعفیٰ دوں گا، ورنہ یہ استعفیٰ دیں۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے الزام لگانے سے پہلے ایوان کی کارروائی کا ریکارڈ چیک کرلیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کے بحری قزاقوں کے قبضے کا معاملہ کل بھی زیر بحث آیا تھا، اگر میں غلط ہوں تو استعفیٰ دے دوں گا، ورنہ یہ استعفیٰ دیں۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی بحری قزاقوں کے قبضے میں ہیں اور صومالیہ سے ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جبوتی اور لندن سفارتخانے کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دفتر خارجہ معاملے کو متحرک انداز میں دیکھ رہا ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ جلد یہ معاملہ حل ہو، ہم ہوا میں کوئی بات نہیں کرتے، فارن آفس کے ذریعے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بحری جہاز اس ایریا میں ہے جہاں صومالی حکومت کی عمل داری نہیں، پلاؤ نامی ملک بھی اس جہاز کو اون نہیں کر رہا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ کے قزاقوں نے 3 ملین ڈالر کا تاوان مانگا ہوا ہے، تاوان دے دیں تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے، اس جہاز کے بعد 4 اور جہاز بھی اغوا ہوئے ہیں۔