وزیراعظم اپنا گھر پروگرام! کیا آپ کا نام قرض منظور ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہے؟جاننے کا طریقہ کار کیا ؟ جانئے

وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 220 ارب 68 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے منظوری کے بعد تقسیم کے لیے تیار ہیں، جبکہ جولائی تک 34 ارب 27 کروڑ روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس تک رسائی سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کے 2026-28 ایکسیس ٹو فنانس پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور ترجیحی شعبوں کو قرضوں تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔ ہول سیل فنانسنگ کے مجوزہ فریم ورک کا بھی جائزہ لیا گیا، جسے بینکوں سے رائے لینے کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

کمیٹی نے ایس ایم ای، زرعی اور ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ڈیش بورڈز اور پیش رفت کا جائزہ لیا، جبکہ وزیر خزانہ نے متعلقہ ڈیش بورڈز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں زرعی شعبے کے لیے فنانسنگ بڑھانے اور کاشتکاروں تک قرضوں کی رسائی بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر کراپ لون انشورنس اسکیم کو ایریا ییلڈ انشورنس میں منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

وزیر خزانہ نے کاشتکاروں کے لیے فنانسنگ اور ادائیگی کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے بینکوں، نان بینک فنانشل اداروں اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت جولائی تک 34 ارب 27 کروڑ روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ بینکوں نے 220 ارب 68 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے منظور کیے ہیں۔ منظور شدہ رقم اب تقسیم کے لیے تیار ہے۔

اجلاس میں کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کو مزید آسان بنانے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے ساتھ زمین اور جائیداد کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

کمیٹی نے پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن پروگرام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت 1200 سے زائد الیکٹرک بائیکس صارفین کو فراہم کی جا چکی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی، صارفین کے طویل مدتی اخراجات میں بچت اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں ایکسیس ٹو فنانس پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور بینکوں کے درمیان تعاون اور رابطہ مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔