اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری نہ ہونے کے معاملے پر وزیراعظم اور صدر مملکت کو سیکریٹریز کے ذریعے کل کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے وزارتِ قانون سے بھی جواب طلب کیا ہے۔
درخواست صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری منظور نہ کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت سے استفسار کیا کہ سمری اس وقت کس مرحلے پر ہے اور اس معاملے پر پیش رفت کیوں نہیں ہوئی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے 15 دن مکمل نہیں ہوئے تھے، لیکن اب 18 دن گزر چکے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹس کے ججز کی کنفرمیشن سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی منظور شدہ سفارشات بھی زیرِ التوا ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین اس معاملے میں واضح ہے اور صدر مملکت سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا نہیں رکھ سکتے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو بتایا کہ صدر اب سمری مسترد بھی نہیں کر سکتے۔
عدالت نے وفاقی حکومت اور وزارتِ قانون سے کل تک تحریری رپورٹس طلب کر لی ہیں، جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ رپورٹ میں بتایا جائے کہ وزیراعظم نے کس تاریخ کو صدر مملکت کو ججز کی تعیناتی کی سمری ارسال کی، اس کے بعد سمری پر کوئی کارروائی ہوئی یا نہیں، اور سمری کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنے کی صورت میں اس کے کیا قانونی نتائج ہوں گے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔






