خلیج میں امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر یقینی رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی۔
امریکی روزگار کے حالیہ کمزور اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں کی توقعات بڑھ گئی ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ وال اسٹریٹ میں مثبت رجحان کے اثرات ایشیائی مارکیٹوں پر بھی نظر آئے اور بیشتر حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے نئے راستوں کے تعین سے متعلق معاہدہ آخری مراحل میں ہے، تاہم تہران کے مطابق امریکا کی جانب سے دیگر شرائط پوری کیے جانے تک آبی گزرگاہ کو معمول کے مطابق نہیں کھولا جائے گا۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 0.9 فیصد اضافے کے بعد 84.32 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے بعد 78.74 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکا میں بدھ کو جاری ہونے والے جولائی کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کو مجموعی مہنگائی میں 0.1 فیصد جبکہ بنیادی مہنگائی میں 0.2 فیصد اضافے کی توقع ہے۔






