میر رضا کیس میں سنسنی خیز موڑ، وکیل کا تہلکہ خیز انکشاف

نوجوان میر رضا کیس میں ایک اور سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے، مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے پولیس تفتیش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔

جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس حکام میر رضا کیس کی تفتیش کرنے کے بجائے متاثرہ خاندان کو ہراساں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس حکام مقتول کے اہلخانہ کو اپنے دفتر میں بٹھا کر بار بار کہتے ہیں کہ ان کے تجربے کے مطابق میر رضا نے خودکشی کی ہے۔

جبران ناصر نے مزید انکشاف کیا کہ میر رضا علی کی آنکھوں اور چہرے کا حصہ دھنسا ہوا ہے، جیسے اس پر کوئی غیر قدرتی مواد ڈالا گیا ہو۔

اس سے قبل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ انکوائری کے بعد تمام سوالات کے جوابات سامنے آ جائیں گے کہ میر رضا کا قتل کیا گیا تھا یا یہ خودکشی تھی۔ اس بات کا بھی باقاعدہ تعین ہوگا کہ میر رضا پر تشدد کیا گیا یا نہیں اور مبینہ تشدد میں کتنے افراد ملوث تھے۔

واضح رہے کہ میر رضا کی قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں یہ بات سامنے آئی کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فرانزک ٹیم کو تمام 14 پوائنٹس کے جوابات بھی مل گئے ہیں۔