لاہور (آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر صورت ٹریفک قوانین کا پابند بنانے کا حکم دے دیا۔
وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب کی گاڑی تلے آکر کمسن بچی کے جاں بحق ہونے پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پیدل سڑک عبور کرنے والوں کے لیے الرٹ بٹن نصب کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
اس موقع پر زیبرا کراسنگ پر پیدل گزرنے والوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے کیمروں کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے شاہدرہ اور ٹھوکر نیاز بیگ میں ٹریفک جام کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے تمام معروف سڑکوں پر بائیک لین مقرر کرنے اور پیدل سڑک عبور کرنے والوں کے لیے زیبرا کراسنگ کی پابندی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ انہوں نے زیبرا کراسنگ کی پابندی یقینی بنانے کے لیے مال روڈ پر پہلا پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت بھی کی۔
مریم نواز شریف نے مال بردار ٹریکٹر ٹرالیوں کو کور کیے بغیر سڑکوں پر آنے پر پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی، جبکہ ستھرا پنجاب کی ٹریکٹر ٹرالیوں کو بھی لازمی طور پر کور کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں گنے کا سیزن شروع ہونے سے قبل ٹریکٹر ٹرالیوں پر اوور لوڈنگ کی روک تھام کے لیے کارروائی کا حکم بھی دیا۔
اجلاس کے دوران مریم نواز شریف نے فیروز پور روڈ کو لاہور کا ماڈل روڈ قرار دینے کا حکم دیا، جبکہ پائن ایونیو اور جاتی امرا چوک پر ٹریفک مینجمنٹ کے لیے سگنلز لگانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے جنوبی ایشیا میں لاہور کی ٹریفک رینکنگ میں بہتری پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نمبیو (Numbeo) گلوبل ٹریفک رینکنگ انڈیکس میں لاہور 149ویں سے 29ویں نمبر پر آچکا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جاتی امرا چوک، پائن ایونیو، ڈیفنس موڑ، کریم بلاک، اکبر فلائی اوور، کاہنہ اور مین بلیوارڈ میں ٹریفک کے ہجوم میں 70 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
سی ٹی او کے مطابق 16 سے 18 سال کے بچوں کے لیے 4096 ٹریفک پرمٹ یا لائسنس جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ لاہور میں مختلف مقامات پر خواتین کے لیے 65 ہزار پینک بٹن بھی نصب کیے جاچکے ہیں۔






