سانحہ پمز اسپتال ، مقدمہ درج ہوگا یا نہیں؟ نئے سوالات کھڑے ہوگئے

پمز اسپتال میں 14 بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوسکا، جبکہ ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کے تحریری احکامات بھی جاری نہیں کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایک خصوصی اجلاس میں سانحہ پمز اسپتال کے ذمہ داران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم اس حوالے سے تحریری احکامات ابھی تک جاری نہیں ہوسکے۔ وزارت صحت بھی فوجداری کارروائی سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کرسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو وزارت صحت کی جانب سے استغاثہ کا انتظار ہے، جس کے بعد مقدمے کے اندراج سے متعلق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ پولیس نے سانحے کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ پہلے ہی درج کر رکھی ہے، جبکہ قانونی مشاورت کا عمل جاری ہے۔ حتمی فیصلے کے بعد استغاثہ تیار کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پہلے سے درج 174 کی رپورٹ کو مقدمے میں تبدیل کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ رپورٹ کو باقاعدہ مقدمے میں تبدیل کرنے کے بعد واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی جاسکیں گی۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے کے معاملے پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسران کو معطل کرنے کی منظوری دی تھی۔ معطل ہونے والے افسران میں پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس شاہ، نیونیٹل ڈپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمان شامل ہیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے سانحے کے ذمہ داران کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت بلاامتیاز کارروائی کی بھی ہدایت کی تھی۔