کم از کم اجرت 43 ہزار روپے کا باقاعدہ نفاذ کب سے ہوگا؟

کراچی: سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے، جس کا باقاعدہ نفاذ یکم جولائی سے ہوگا۔

سعید غنی نے کہا کہ اس فیصلے سے صوبے بھر کے لاکھوں مزدوروں اور ملازمین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور ان کی معاشی مشکلات میں کمی آئے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کو وفاقی انکم ٹیکس سے رعایت بھی دلوائی ہے، جس سے بورڈ کے وسائل میں اضافہ ہوگا اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے مزید منصوبے شروع کیے جا سکیں گے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کی فلاح کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزدوروں کے بچے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کی تعلیمی معاونت کے لیے براہ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ بلا رکاوٹ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے 2023 کے دوران 240 ڈاکٹرز بھی بھرتی کیے، جبکہ متعلقہ ادارے مقررہ ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مزدور دوست پالیسیوں پر عمل جاری رکھے گی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close