لاہور (آئی این پی): پنجاب بار کونسل نے لا ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے وکلا کے خلاف اپنی تاریخ کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس معطل کر دیے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سندھ سے متعلق مزید 62 وکلا کے لائسنس بھی معطل کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی منظوری سے کی گئی۔
پنجاب بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جنرل ہاؤس کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف جامعات سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے وکلا کو ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے، بعد ازاں انہیں 15 جولائی 2026 تک مہلت بھی دی گئی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود 1133 وکلا اپنی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ لا ڈگریاں جمع نہ کرا سکے۔
اعلامیے کے مطابق صرف 29 وکلا نے مقررہ وقت کے اندر ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرائیں، جبکہ 32 دیگر کیسز لائسنس کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سندھ سے متعلق جاری جانچ پڑتال کے دوران مزید 62 وکلا کے لائسنس بھی معطل کر دیے، جبکہ اسی یونیورسٹی کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل میں انٹی میشن جمع کرانے والے 128 افراد کو آخری موقع دیتے ہوئے 25 جولائی 2026 کو اصل تعلیمی دستاویزات، متعلقہ ثبوت اور ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اسی یونیورسٹی سے متعلق 125 وکلا کے لائسنس معطل کیے گئے تھے۔
پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ جن افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، اگر وہ مقررہ تاریخ پر مطلوبہ دستاویزات اور ثبوت پیش نہ کر سکے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی، بشمول مقدمات کے اندراج، عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی منظوری سے کی گئی اس کارروائی کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی وکیل جعلی یا بوگس تصدیقی سرٹیفکیٹ یا کوئی جعلی دستاویز پیش کرتا ہے تو اس کے خلاف مروجہ قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
فخر حیات اعوان کا کہنا ہے کہ جن وکلا نے تاحال ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگری جمع نہیں کرائی، وہ تصدیق مکمل ہونے کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کے کیسز قانون کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد وکالت کے شعبے میں شفافیت، پیشہ ورانہ معیار اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ ڈگریوں کی تصدیق کا عمل آئندہ بھی قانون کے مطابق جاری رکھا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






