وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مستقبل میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے، تاہم عوام حکومت پر اعتماد رکھیں۔
وفاقی وزیر نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کو ریاستی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پر ایسا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے جس سے ریاست کے مفاد پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے ریلیف کا آغاز کردیا ہے۔ آئی ایم ایف رواں ماہ جائزے کے لیے پاکستان آ رہا ہے اور حکومت اپنی ٹیم کے ذریعے عوام کے لیے ریلیف کا راستہ نکالنے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اوگرا شفاف طریقہ کار کے تحت روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ حکومت کوئی بھی فیصلہ بغیر سوچے سمجھے نہیں کرتی، ہر اقدام کے پیچھے ایک منطق ہوتی ہے۔ ملک میں بہتری کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کو سب سے زیادہ تشویش گیس سیکٹر کے حوالے سے ہے۔ قطر سے 30 ملین ڈالر مالیت کا گیس کارگو نہیں نکل رہا، جسے اب 100 ملین ڈالر میں حاصل کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے ہوگئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔






