یمن کے حوثیوں کی جانب سے اہم ساحلی علاقوں پر قبضے اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پیچھے دھکیلنے کے چند روز بعد امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان عمان میں مبینہ خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اتوار کے روز مسقط میں امریکی سفارتخانے میں حوثی نمائندوں سے ملاقات کی۔ امریکی وفد میں سفارتخانے کے حکام شامل تھے، جبکہ حوثی وفد کی نمائندگی مسقط میں مقیم سینئر رہنما محمد عبدالسلام نے کی۔
ذرائع کے مطابق حوثی وفد میں سینئر رہنما عبدالملک العجری بھی شامل تھے۔ ملاقات میں یمن کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے امریکی فریق کو 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ بحیرۂ احمر میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم حوثیوں نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو اپنے اہداف میں شامل قرار دیا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے فون پر رابطہ کرکے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی تھی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق امریکا متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور خطے کے دیگر فریقوں سے بھی مسلسل رابطے میں ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکا نے مارچ 2025 میں حوثی گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق حوثیوں کے ساتھ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے اور خطے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل علاقوں میں بھی لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔
یمن میں جاری کشیدگی میں گزشتہ ہفتے اس وقت مزید شدت آئی جب حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں، جن میں المُخا اور باب المندب کے دہانے پر واقع اہم پیرم جزیرہ بھی شامل ہے، پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔
یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی 2014 سے حوثیوں کا کنٹرول ہے۔ حالیہ لڑائی کے دوران حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
عمان میں ہونے والی مبینہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں جاری لڑائی، بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت اور سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث خطے میں سفارتی اور عسکری صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔






