گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات جاری کر دی گئیں۔
دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف کے دباؤ پر عوام سے پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں 29 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک سال میں پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کی وصولی 356 ارب روپے سے زائد بڑھی۔ حکومت نے عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1576 ارب روپے جمع کیے۔ پچھلے سال یہ رقم 1220 ارب روپے تھی۔
اس کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی اور کاربن لیوی کی مد میں 26 ارب روپے کی وصولی الگ سے کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی اخراجات 892 ارب روپے بڑھ کر ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ مجموعی حکومتی اخراجات 15 ہزار 282 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔ مالی خسارہ 4 ہزار 763 ارب روپے رہا جو مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کا 2.6 فیصد بنتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 7 ہزار 668 ارب روپے کے فنڈز منتقل کیے گئے۔
دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2588 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ سبسڈی میں 22 فیصد کمی ہوئی اور یہ 1300 ارب کے مقابلے میں 1001 ارب روپے رہیں۔ ترقیاتی اخراجات بھی 786 ارب سے کم ہو کر 727 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔






