کوئٹہ (آن لائن) آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر ہڑتال کے باعث ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں آٹا، سبزی، پھل اور مرغی مہنگی ہوگئی، جبکہ شہریوں نے خودساختہ مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہری حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دکانداروں اور ریڑھی بانوں کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں من مانے اضافے کا نوٹس لیا جائے اور پرائس کنٹرول کمیٹی کے مقرر کردہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فروخت یقینی بنائی جائے۔
کوئٹہ میں پیاز کی قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پانچ کلو پیاز 600 سے 900 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ آلو کی پانچ کلو قیمت 150 سے 200 روپے تک بتائی گئی ہے۔ مرغی کی قیمت میں بھی 50 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے اور یہ 550 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
اسی طرح 20 کلو آٹے کا تھیلا 2750 روپے کے بجائے 2850 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔ پھلوں میں آڑو 150 سے 250 روپے اور آم 200 سے 300 روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں۔
سبزیوں میں اروی 150 روپے، کدو 80 روپے، توری 150 روپے، بھنڈی 150 روپے، بینگن 80 روپے اور کھیرا 100 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ سبز دھنیا، پودینہ اور سبز پیاز کی گٹھی کی قیمت بھی 10 روپے سے بڑھا کر 20 روپے کردی گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ ہڑتال کے باعث اشیائے ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، تاہم بعض دکاندار اور ریڑھی بان صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، ضلعی مجسٹریٹ اور پرائس کنٹرول کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ گراں فروشی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فروخت یقینی بنائی جائے۔






