اسلام آباد (آن لائن) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی پروقار افتتاحی تقریب قومی جذبے، حب الوطنی اور دفاعِ وطن کے عزم کے اظہار کے ساتھ منعقد ہوئی، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یادگارِ فتح کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
تقریب میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت، وفاقی وزرا، سروسز چیفس، صوبائی قیادت، سول آرمڈ فورسز، پولیس کے دستوں اور مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے دستوں کی شرکت نے تقریب کو قومی یکجہتی کی نمایاں علامت بنا دیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد یادگارِ فتح کی تعمیر، مراحل اور قیام کے مقاصد پر مبنی خصوصی ویڈیو پیش کی گئی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کی آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں صدر مملکت اور وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ یادگارِ فتح کا افتتاح کیا۔
تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزرا، سروسز چیفس، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنرز سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ غیر ملکی سفارت کاروں اور سفارتی نمائندوں کی شرکت نے بھی تقریب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی بھی نمایاں رہی۔ مسلح افواج کے دستوں کے ساتھ سول آرمڈ فورسز، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دستوں نے شرکت کی، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پولیس کے دستے بھی تقریب کا حصہ تھے۔
تقریب کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی شرکت نے قومی یکجہتی اور ملکی دفاع کے حوالے سے اجتماعی عزم کی عکاسی کی۔ سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ موجودگی کے باعث افتتاحی تقریب کو قومی سطح پر خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔
یادگارِ فتح کو ملکی دفاع، قومی جذبے اور وطن کے لیے خدمات انجام دینے والوں کی یاد کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریب میں ملک کے مختلف حصوں کی نمائندگی اس امر کی علامت بنی کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تقریب میں شریک مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز اور مختلف صوبوں و علاقوں کے دستوں نے قومی اتحاد کی خوبصورت تصویر پیش کی، جبکہ اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی شرکت نے اس عزم کو بھی نمایاں کیا کہ ملکی دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ادارے اور طبقات اپنا کردار جاری رکھیں گے۔






