اسلام آباد (آن لائن) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے موبائل فون فروخت کرنے، کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنے یا مرمت کے لیے دینے سے قبل ذاتی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق اسمارٹ فونز میں ذاتی تصاویر، رابطہ نمبرز، پیغامات، دستاویزات، پاس ورڈز اور سماجی رابطوں کے کھاتوں تک رسائی موجود ہوتی ہے، اس لیے معمولی سی لاپرواہی بھی معلومات چوری ہونے اور نجی معلومات کے غلط استعمال کا سبب بن سکتی ہے۔
پی ٹی اے نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ فون کو فیکٹری پر بحال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ موبائل میں موجود تمام معلومات مکمل طور پر محفوظ اور خفیہ انداز میں محفوظ کی گئی ہوں۔
اتھارٹی کے مطابق صرف فیکٹری پر بحال کرنا بعض صورتوں میں کافی نہیں ہوتا، کیونکہ جدید سافٹ ویئر کے ذریعے معمول کے طریقے سے حذف کی گئی معلومات دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے فون کا مکمل فیکٹری ری سیٹ کرنا ضروری ہے۔
پی ٹی اے نے مزید مشورہ دیا ہے کہ پہلی مرتبہ فیکٹری پر بحال کرنے کے بعد فون میں کچھ غیر اہم تصاویر اور ویڈیوز دوبارہ منتقل کی جائیں اور اس کے بعد ایک مرتبہ پھر فون کو فیکٹری پر بحال کر دیا جائے۔ اس طریقے سے پرانی ذاتی معلومات کی بحالی کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
پی ٹی اے نے کہا ہے کہ فون سے معلومات حذف کرنے سے پہلے اہم تصاویر، رابطہ نمبرز، دستاویزات اور دیگر ضروری فائلوں کا محفوظ مقام پر بیک اپ ضرور بنایا جائے، جیسے آن لائن ذخیرہ گاہ یا بیرونی ہارڈ ڈرائیو۔
اتھارٹی نے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ موبائل فون کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنے سے پہلے اپنا سم کارڈ اور بیرونی یادداشت کارڈ لازماً نکال لیں۔
پی ٹی اے کے مطابق چند منٹ کی یہ احتیاطی تدابیر صارفین کو ذاتی معلومات کی چوری، معلومات کے غلط استعمال اور نجی زندگی کی خلاف ورزی جیسے خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔





