اسلام آباد: آئندہ وفاقی بجٹ میں موبائل فون ٹیکسز کے حوالے سے ممکنہ تبدیلیوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد صارفین کی نظریں حکومت کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت پریمیم درآمدی موبائل فونز پر موجودہ بلند پی ٹی اے ٹیکس ڈھانچے کو برقرار رکھنے پر غور کر رہی ہے، جس کے باعث اسمارٹ فون صارفین کو بڑے ریلیف کی توقع کم دکھائی دیتی ہے۔
تاہم بجٹ میں موبائل فونز پر عائد بعض ٹیکسز کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اگر اس تجویز کی منظوری دے دی جاتی ہے تو 500 ڈالر سے زائد مالیت کے ہائی اینڈ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹیکسوں میں کمی کی صورت میں بالخصوص آئی فون اور سام سنگ کے فلیگ شپ ماڈلز پاکستانی صارفین کے لیے نسبتاً سستے ہو سکتے ہیں، جس سے مہنگے اسمارٹ فونز کی خریداری میں آسانی پیدا ہوگی۔
دوسری جانب مقامی موبائل فون اسمبلرز اور مینوفیکچررز درآمدی ٹیکس میں کمی کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈیوٹی میں کمی سے درآمد شدہ فونز سستے ہو جائیں گے، جس سے مقامی سطح پر تیار ہونے والے موبائل فونز کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔
موجودہ پی ٹی اے رجسٹریشن نظام کے تحت بیرون ملک سے لائے گئے یا غیر سرکاری ذرائع سے درآمد ہونے والے موبائل فون محدود مدت تک ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں فعال رکھنے کے لیے مقررہ ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موبائل فونز پر درآمدی ٹیکس میں کمی نہ کی گئی تو پاکستانی صارفین کے لیے جدید اور فلیگ شپ اسمارٹ فونز کی قیمتیں بدستور بلند رہنے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






