جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ خطاب پر سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے، جس کے بعد حکومتی وزراء اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے ان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے وضاحت اور معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے ملکی اداروں، بالخصوص فوج سے متعلق گفتگو کی، جس پر حکومتی شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاستدان اور مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ کوئی شخص صرف مالی فائدے کے لیے اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے نظریہ، عقیدہ اور وطن سے محبت کا جذبہ ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ سے شہداء کی قربانیوں کی قدر کم ہونے کا تاثر پیدا ہوا، جس سے عوام کے جذبات متاثر ہوئے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں امن اور معمولاتِ زندگی برقرار رکھنے میں سرحدوں پر تعینات اہلکاروں کی قربانیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے بھی مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر قوم اور شہداء کے اہل خانہ سے معذرت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہادت کسی مالی فائدے سے نہیں بلکہ حب الوطنی اور ایمان کے جذبے سے جڑی ہوتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






