//

6 خوفناک دھماکے ، خوف و ہراس پھیل گیا

ایران کے جنوبی علاقوں جزیرہ قشم اور بندر عباس کے مغربی حصے میں 6 دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق بندر عباس کے مغربی علاقے میں پانچ جبکہ جزیرہ قشم میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ فارس نیوز کے مطابق چغادک اور بوشہر کے علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں، تاہم ابتدائی طور پر دھماکوں کی نوعیت، وجوہات اور ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے ایران میں متعدد اہداف پر فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف فضائی حملے کیے گئے، جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائی تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی، جس میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابوموسیٰ اور بندر عباس سمیت مختلف مقامات کو ہدف بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد تجارتی جہازوں کے خلاف ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے مرکز، امریکی تنصیبات اور دیگر اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں بعض فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایرانی انتباہات کو نظر انداز کیا۔

مزید برآں، ایرانی میڈیا نے کویت میں امریکی فوجی اڈے کے قریب دھماکے کی آوازیں سنائی دینے کا دعویٰ کیا، جبکہ اردنی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار میزائلوں کو مار گرایا گیا۔

خطے میں جاری ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک اور عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close