رات کو سوتے وقت کمرے میں موجود معمولی سی روشنی بھی دل کی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نیند کے دوران تین لکس، یعنی انتہائی مدھم روشنی سے کچھ زیادہ روشنی میں رہنے والے افراد کے دل کے پٹھوں میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو وقت کے ساتھ دل کی کارکردگی متاثر ہونے اور مستقبل میں امراضِ قلب کے خطرے سے منسلک ہوسکتی ہیں۔
یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق رات کے وقت روشنی کی مقدار جتنی زیادہ تھی، دل کے پٹھوں میں تبدیلیاں بھی اتنی ہی نمایاں دیکھی گئیں۔ ماہرین کے مطابق موبائل فون کی اسکرین، ڈیجیٹل الارم گھڑی یا کھڑکی سے باہر سڑکوں اور عمارتوں کی روشنی بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے سینئر مصنف اور ٹولیَن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر لو چی کے مطابق رات کے وقت روشنی کی آلودگی دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے ایک ممکنہ نئے خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات میں غیر ضروری روشنی کم کرنا امراضِ قلب سے بچاؤ کی ممکنہ حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں برطانیہ کے یو کے بائیوبینک سے وابستہ 11 ہزار سے زائد ایسے افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جنہیں تحقیق کے آغاز پر دل کی بیماری لاحق نہیں تھی۔ شرکا نے سات دن تک کلائی پر ایسا سینسر پہنا جو رات کے وقت روشنی کی مقدار ریکارڈ کرتا تھا۔ تقریباً تین سال بعد ان کے دل کے ایم آر آئی اسکین کیے گئے تاکہ دل کی ساخت اور کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے۔
نتائج کے مطابق رات کو تین لکس سے زیادہ روشنی میں سونے والے افراد کے دل کے بائیں وینٹریکل کی دیواریں نسبتاً موٹی تھیں۔ بائیں وینٹریکل دل کا وہ حصہ ہے جو خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے۔ اس کی دیوار موٹی ہونے سے خون کے لیے دستیاب اندرونی جگہ کم ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں دل کے پٹھوں کے سکڑنے اور پھیلنے کی صلاحیت میں بھی کمی دیکھی گئی، جسے دل کی کارکردگی میں ابتدائی خرابی کی علامت قرار دیا جاسکتا ہے۔ ماہرین اس عمل کو ’کارڈیک ریموڈلنگ‘ کہتے ہیں، یعنی دل کے پٹھوں کی ساخت میں ایسی تبدیلی جو وقت کے ساتھ اس کے معمول کے کام کو متاثر کرسکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ دل پر پڑنے والے اثرات میں سے تقریباً 24 سے 49 فیصد حصہ پانچ یا چھ گھنٹے سے کم نیند لینے سے متعلق ہوسکتا ہے۔ محققین کے مطابق رات کی روشنی تناؤ، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن سمیت دیگر عوامل کو بھی متاثر کرسکتی ہے، تاہم اس کے مکمل اثرات اور وجوہات ابھی واضح نہیں ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیق کے نتائج کو احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے۔ کنگز کالج لندن کے استاد کارل لارنس کے مطابق صرف ایک ہفتے کی روشنی کی پیمائش سے یہ حتمی طور پر معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ کسی شخص کو طویل مدت تک رات میں کتنی روشنی کا سامنا رہا۔ کلائی پر لگایا گیا سینسر آنکھ تک پہنچنے والی روشنی کی اصل مقدار کی بھی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔
اس لیے تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رات کی روشنی براہِ راست دل کی ساخت میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔ اس تعلق کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق احتیاطی طور پر سونے کے کمرے کو زیادہ سے زیادہ تاریک رکھنا ایک آسان اور مفید قدم ہوسکتا ہے۔ باہر سے آنے والی روشنی روکنے کے لیے موٹے یا بلیک آؤٹ پردے استعمال کیے جاسکتے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر سلیپ ماسک بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل گھڑیوں کو بستر کے قریب روشن رکھنے سے گریز کرنا بھی بہتر ہے۔
اگر رات کے وقت ہلکی روشنی ضروری ہو تو اسے انتہائی مدھم رکھنے اور فرش کے قریب لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ سرخی مائل، بھوری یا گہری عنبری روشنی نسبتاً بہتر انتخاب ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صبح کے وقت قدرتی روشنی میں رہنا بھی اہم ہے، کیونکہ دن کی روشنی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردھم، کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ رات کے وقت غیر ضروری روشنی کم کرنا دل کی صحت کے لیے ایک آسان احتیاطی قدم ہوسکتا ہے۔ تاہم رات کی روشنی کو براہِ راست دل کی بیماری کی ثابت شدہ وجہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس تعلق اور اس کے پیچھے موجود حیاتیاتی عمل کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔






