نکاح رجسٹرارز کے لیے نئے سخت ترین قوانین نافذ!

لاہور: نکاح رجسٹرارز کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، جس کے تحت کوئی رجسٹرار اپنے مقررہ دائرہ اختیار یا نامزد کردہ علاقے سے باہر جا کر نکاح رجسٹر کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادیوں کے رجحان کی روک تھام کے لیے نکاح رجسٹرارز پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے کم عمری کی شادیوں کے انسداد اور نکاح کی رجسٹریشن کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے نکاح رجسٹرارز پر نئی سخت پابندیاں اور اہلیتی معیار لاگو کردیا ہے۔

نئے قوانین کے تحت کوئی بھی نکاح رجسٹرار اپنے مقررہ دائرہ اختیار یا نامزد کردہ علاقے سے باہر جا کر نکاح رجسٹر کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

نکاح رجسٹرار کے عہدے پر تعیناتی کے لیے امیدوار کا تعلیمی معیار پورا کرنا اور ازدواجی قوانین و طریقہ کار پر مبنی ٹیسٹ میں کم از کم 90 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کمپیوٹر اور تکنیکی معلومات نہ رکھنے والوں کے لیے اہلیت ختم کردی گئی ہے۔ انٹرنیٹ استعمال نہ کرسکنے یا موبائل فون چلانے سے قاصر افراد کو بطور نکاح رجسٹرار تعینات نہیں کیا جائے گا۔

نکاح رجسٹرارز پابند ہوں گے کہ وہ نکاح کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرکے اس کا تمام ریکارڈ 7 دن کے اندر متعلقہ یونین کونسل میں جمع کرائیں۔

کسی بھی قسم کے فوجداری مقدمے کا سامنا کرنے والے یا مجرمانہ ہسٹری رکھنے والے فرد کو نکاح رجسٹرار بننے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد نکاح کی رجسٹریشن کے عمل کی کڑی نگرانی کرنا اور شادی کے لیے قانونی عمر کی خلاف ورزی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔