اسلحہ کی فراہمی کے سکینڈل پر وزیر دفاع کا عہدے سے استعفیٰ

تالین (آن لائن) ایسٹونیا کے وزیر دفاع ہانو پیوکور نے اس اسکینڈل کے بعد استعفیٰ دے دیا، جس میں یوکرین کے لیے توپ خانے کے گولے تیار کرنے والی بھارتی انتظام والی کمپنی کو تقریباً 70 ملین یورو کی ادائیگی کی گئی، تاہم بعد میں گولہ بارود ناقص پایا گیا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق اٹلی میں قائم کمپنی ڈیٹاسیل ایس آر ایل کو یوکرینی فوج کے لیے گولے تیار کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس سے قبل ایک بھی گولہ تیار یا فروخت نہیں کیا تھا۔

ایسٹونیا نے اگست 2024 میں یورپی یونین کے فوجی فنڈ سے رقم ادا کی تھی تاکہ گولہ بارود نومبر 2024 تک یوکرین کے محاذ پر پہنچایا جا سکے۔ تاہم کمپنی نے ترسیل میں کئی مرتبہ تاخیر کی اور 2025 میں جب ایک کھیپ کا معائنہ کیا گیا تو گولے ناقص نکلے، جس کے بعد انہیں یوکرین نہیں بھیجا گیا۔

ہانو پیوکور نے ٹی وی پروگرام میں استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی حیثیت سے وہ اپنے محکمے کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، چاہے اس معاملے میں ان کی ذاتی ذمہ داری نہ ہو۔

دوسری جانب ڈیٹاسیل ایس آر ایل نے ایسٹونیا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ اس نے تقریباً 59 ملین یورو مالیت کا بیشتر گولہ بارود فراہم کر دیا تھا اور اگر ایسٹونیا نے معاہدہ ختم نہ کیا ہوتا تو وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیتی۔

ایسٹونیا کا مرکزی دفاعی خریداری ادارہ آر کے آئی دفاعی سازوسامان کی خریداری اور ٹھیکوں کے عمل کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔