3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا بڑا اعلان، حافظ نعیم الرحمن

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت عوام پر مسلسل ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ حکمران اپنی مراعات اور عیاشیاں ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے رقم وصول کرنے کے بجائے حکمران بڑی سرکاری گاڑیاں، مفت پٹرول اور دیگر مراعات ختم کریں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے پندرھویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا، تاہم جماعت اسلامی کے کارکنوں کو قیادت نے تالے توڑنے سے روک دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اجازت نہ دی گئی تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بند کردی جائیں گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہوگی اور اس کے بعد احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے، تاہم حکومت کو اب سمجھ آگیا ہے کہ جماعت اسلامی عوامی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کا نظام گل سڑ چکا ہے اور عوام کو کسی شعبے میں ریلیف نہیں مل رہا۔ مہنگائی کے باعث اساتذہ، ڈاکٹرز، مزدور، طلبہ اور چھوٹے کسان مشکلات کا شکار ہیں جبکہ نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بلوچستان میں بدامنی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق پولیس اصلاحات اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکمران طبقے کی مراعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ بڑے زمیندار اور مراعات یافتہ طبقہ ٹیکس سے بچ جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری افسران اور وزرا مہنگی گاڑیوں کے بجائے 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کریں اور مفت پٹرول سمیت غیر ضروری مراعات ختم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث صنعتیں تباہ اور مزدور پریشان ہیں۔ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں رقم عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں حکومت آئی پی پیز سے مذاکرات پر مجبور ہوئی اور عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہیں۔ لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔