متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے پہلے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کرلیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے تمام ارکان نے ایوان میں اپوزیشن اتحاد کی حمایت کردی۔ اجلاس میں بے روزگاری، مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات اور یوٹیلیٹی بلز میں عوام کو ریلیف دلانے کے لیے حکومت کو بھرپور دباؤ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے جے یو آئی کی اتحاد میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام قومی امور پر پارلیمنٹ میں متفقہ مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا۔ پی ٹی آئی، جے یو آئی، ایم ڈبلیو ایم، پی کے میپ اور سنی اتحاد کونسل قومی معاملات پر مشترکہ آواز اٹھائیں گی، جبکہ کسی بھی پارلیمانی بزنس کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ بھی باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد محمود اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی اور مبارکباد کا دن ہے، کیونکہ گھٹن کے ماحول میں اپوزیشن آئین کی بالادستی کے لیے متحد ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آزاد عدلیہ اور پاکستان کے نظام کی تشکیل نو کے لیے متحد ہے اور امید ہے کہ ایک باعزت جمہوری پاکستان کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ ان کے مطابق اتحاد پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے میں کردار ادا کرے گا، جبکہ ملک میں بے روزگاری اور بدامنی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام معاملات باہمی اتفاق رائے سے طے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں اور اندرونی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مشکل صورتحال میں صوبوں سے متعلق معاملات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ اس حوالے سے نہ مناسب ماحول ہے اور نہ ہی مکمل تیاری نظر آتی ہے۔
اجلاس میں محمود اچکزئی، راجا ناصر عباس، مولانا فضل الرحمان، بیرسٹر گوہر سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں اور ارکان نے شرکت کی۔






